بین الاقوامی خبریں

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ

عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی فضائی حملے میں جاں بحق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی نماز جنازہ ہوئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، شرکاء نے امریکا مخالف نعرے لگائے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قاسم سلیمانی کی میت ایران روانہ کی جائے گی، جہاں کل مشہد میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شریک ہونگے، قاسم سلیمانی کی تدفین آبائی شہر کرمان میں ہوگی۔

گزشتہ روز امریکی ڈرون حملے میں ہلا ک ہونے والے ایرانی جنرل کی بغداد میں نمازجنازہ ادا کی گئی جس میں لاکھوں افراد شریک ہو ئے ۔

دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل پر رد عمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے، قطر کے وزیر خارجہ نے تہران میں صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے، چینی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو فون کیا ہے، امریکا نے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں عراقی فوج کی مدد کرنے والے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے آپریشنز کو کم کر دیا ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایرنی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے گھر کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے جنرل کو مار کر امریکا نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے قتل پر ایران امریکا کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا نے بہت بڑی غلطی کی، جنرل سلیمانی کے قتل پر ردعمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی بلیک میلنگ اورسازشی مہم سے مغلوب نہیں ہوں گے اور یہ کہ ایران کسی بھی وقت جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکا نے تین سنگین غلطیاں کیں، عراق کی خودمختاری اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، پورے خطے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، طاقت اور جرائم کے ذریعے پالیسیوں پرپیش رفت دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گردی کی کارروائی تھی ، ایران عالمی سطح پر امریکا کو قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے کئی قانونی اقدامات کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے معاملے پر سوئس سفیر نے بہت احمقانہ بیان دیا جس پر انہیں دو مرتبہ وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔

دوسری طرف میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی ایران پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی ہے۔

 

دوسری طرف میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی ایران پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی ہے۔

 

قطری وزیر خارجہ نے صدر حسن روحانی سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

حسن روحانی کا کہنا تھا کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکا کی طرف سے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات خطرناک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپس میں باہمی تعلقات سے لطف اندوز ہونے والی ریاستوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ایران کشیدگی اور خطے کو عدم استحکام کرنے کا خواہشمند نہیں ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون کیا ہے اور کہا کہ امریکا طاقت کے ناجائز استعمال سے بعض رہے، امریکا کو مسائل کا حل با ت چیت کے ذریعہ تلاش کرنا چاہیے، امریکا کے فوجی آپریشن عالمی معمولات کی خلاف ورزی ہے، امریکی آپریشنز کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اُدھر کمانڈر پاسداران انقلاب جنرل غلام علی ابو حمزہ کا کہنا ہے کہ خطے میں 35 امریکی اہداف اور تل ابیب ہماری دسترس میں ہے، ایران قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لئے جہاں کہیں امریکی ہونگے ان کو سزا دے سکتا ہے، آبنائے ہرمز میں بھی اہم امریکی اہداف کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

عراق میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اتحادی افواج نے عراق میں اپنے آپریشز کو محدود کر دیا گیا ہے۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں عراقی فوج کی مدد کرنے والے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے آپریشنز کو کم کیا گیا ہے۔

عہدے دار کا کہنا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح اتحادی فوجیوں کی حفاظت کرنا ہے۔ امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں نے عراق میں اپنے تربیتی اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز ’محدود‘ کیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی آپریشنز روکے نہیں گئے۔ ہم نے عراق میں اتحادی افواج کی بیسز پر دفاعی اور سکیورٹی کے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔

امریکی دفاعی عہدے دار کے مطابق عراق میں حالیہ مہینوں میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی جانب سے امریکی فوجیوں پر راکٹ حملوں میں اضافے کے بعد ہم نے حفاظتی اقدامات میں تبدیلی کی ہے۔

نیٹو کے ترجمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ عراق میں اپنے تربیتی مشنز کو معطل کر دیں گے۔ اب ان کی زیادہ توجہ داعش گروپوں کے بجائے نئے حملے روکنے پر ہو گی۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں تشویش پھیلنے لگی، قطری وزیر خارجہ ہنگامی دورے پر تہران پہنچ گئے جبکہ چینی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی ایران پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کا اعلیٰ سطحی کا سفارتی عملہ ایران پہنچا، محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ایرانی ہم منصب کے ساتھ دو راؤنڈ کے مذاکرات کیے ۔

دوسری طرف چین نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردعمل دیتےہوئے امریکا پر زور دیا ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال نہ کرے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وانگ یی نے امریکا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا خطرناک ملٹری آپریشن بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اقدار کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی اور انتشار میں اضافہ ہوگا۔

دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ترک وزیر خارجہ کو ٹیلیفون کیا اور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ ترک ہم منصب نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر مذمت کی۔

جواد ظریف نے ترک وزیر خارجہ کے بعد افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ نے بھی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیرخارجہ نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو بھی ٹیلی فون کیا، جوادظریف نے انتونیوگوئترس سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر گفتگو کی اور کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر دہشتگرد امریکا کا احتساب ہونا چاہیے۔

روسی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بھی ٹیلیفون کیا اور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی مذمت کی۔

دوسری طرف بیلاروس، کیوبا، بھارت،افغانستان نے بھی مشرق وسطی کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا اور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا۔

ادھر بغداد میں ایرانی جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکا کے ایک اور فضائی حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 2 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

امریکا کے فضائی حملے میں ایرانی جنرل سلیمانی کی موت کے بعد واشنگٹن اور تہران میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملے میں عراقی پیرا ملٹری فورس الحشدالشعبی کے کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ روز امریکی فضائی حملے میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی نئی دہلی سے لندن تک معصوم لوگوں کو مارنےمیں ملوث تھے، انہیں مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا ہے۔ امریکا جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانے کے بعد مزید 3 ہزار 500 فوجی مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، دستے کویت پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

لبنانی گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے۔

ادھر امریکا میں ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدواروں نے ایرانی ملٹری کمانڈر پر فضائی حملے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکا کو مشرق وسطیٰ کی ایک جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔

ایرانی جنرل پر حملے کے بعد ڈیمو کریٹ رکن کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے ٹرمپ پر کڑی تنقید کی ہے۔ الہان عمر کا کہنا ہے کہ کانگریس کی اجازت لیے بغیر ممکنہ طور پر ایک اور جنگ چھیڑ دی گئی۔ جبکہ رشیدہ طلیب کا کہنا ہے کہ لا پرواہ سرکش صدر امریکا کو غیر ضروری جنگ کے دہانے پر لے آئے۔

القدس فورسز کے سربراہ قاسم سلیمانی ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کےبعد دوسری طاقتور شخصیت تھے۔ ایران نے ان کی موت کا سخت انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی لڑاکا طیارے عراق کے قریب پٹرولنگ کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close