اہم خبریں

دعا منگی کی رہائی ،پولیس گتھی سلجھانے میں مصروف

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا گھر کیسے پہنچی ؟ اُسے کس نے اغوا کیا ؟ کیا اس کی رہائی کے تاوان دیا گیا یا نہیں ؟ ایک کے بعد دوسرا سوال اٹھنے لگا، تاہم دعا منگی کے گھر والوں کی جانب سے اب تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں  آ سکا ۔۔ایسے میں پولیس کے لئے بھی اس کیس کو سلجھانا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے

کراچی میں دعا منگی اغوا کیس کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، دعا منگی کے اغوا کاروں کا 3 دن پہلے پولیس سے مقابلہ ہوا تھا۔

مغوی دعا منگی کی رہائی کیسے ممکن ہوئی؟ پولیس حکام اب تک یہ گتھی سلجھاے میں ناکام ہیں تاہم اغوا کاروں کے حوالے سے پیشرفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دعا منگی کی رہائی تاوان کے بدلے عمل میں آئی، تاوان جمعہ کو دیا گیا اور اسی رات دعا گھر آگئی۔

ذرائع کے مطابق اغوا میں ملوث گروہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ماہر ہے، تاوان وصول کرنے تک کے تمام معاملات انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان سے باہر طے ہوئے۔

ذرائع کے مطابق تاوان کے لیے پہلی کال یکم دسمبر کو کی گئی، ملزمان ویڈیو کال کرکے دعا کے گھر کا جائزہ بھی لیتے رہے۔

پولیس حکام کے مطابق دعا منگی کے اغوا کیس کی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی، اغوا کاروں اور پولیس کے درمیان 3 دن پہلے مقابلہ ہوا تھا۔

تفتیشی ٹیم کے مطابق پولیس کو دیکھ کر نقاب پوش ملزمان نے فائرنگ کی، جس میں 2 اہلکار اور ایک ملزم زخمی بھی ہوا تھا، تاہم وہ فرار ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دعا منگی کے اہلخانہ نے تاوان کی رقم دینے سے پہلے پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا، اغوا میں فیروز آباد سے چھینی گئی گاڑی استعمال ہوئی، ملزمان نے گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر واردات کی۔ دوسری طرف پولیس حکام کے مطابق دعا منگی کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے سوال نامہ تیار ہے۔ تین مقامات کی جیو فینسنگ سے کوئی مدد نہیں مل سکی، اس لیے سی سی ٹی وی فوٹیج بہتر بنانے کے لیے ماہرین کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی کے پوش علاقے میں گزشتہ ہفتے اغوا کیس میں پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکی دعا منگی کی گھر واپسی تو ہوگئی ہے تاہم کیس کو حل کرنا کراچی پولیس کے لئے چیلنج بن چکا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے تین روز قبل عزیز بھٹی کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے کو دعا منگی کو لے جانے والے اغواکاروں سے جوڑ دیا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق عزیز بھٹی میں جو مقابلہ ہوا، وہ ملزمان دعا کو اغوا کر کے لے کرگئے۔ ملزمان نے فائرنگ بھی کی جس سے پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک ملزم کو زخمی کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دعا کے تاوان کی رقم ساؤتھ زون میں مسجد کے قریب ادا کی گئی، رقم دینے سے پہلے تفتیشی ٹیم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

دوسری جانب پولیس یہ بات جانتے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دعا کو کس مقام پر رکھا گیا تھا؟ رہائی کیلئے کتنی رقم ادا کی؟ معلوم کیا جارہا ہے جبکہ دعا منگی کا بیان آج ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق تفتشی ٹیم نے تاحال دعا منگی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا ہے تاہم بیان کے لیے سوال نامہ تیار کر لیا گیا ہے۔ دعا مگی سے بیان کے بعد حارث کا دوباہ بیان لیا جائے گا کیونکہ دونوں نوجوانوں نے ملزمان کو قریب سے دیکھا ہے۔ تفیشی ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے خالد بن روڈ اور ڈیفنس سمیت تین مقامات کی جیو فینسک سے مدد نہیں ملی۔ جائے وقعہ اور اطراف کی سی سی ٹی وی کو بہتر بنانے کیلئے ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close